:
Breaking News

بہار کے سمستی پور میں دن دہاڑے بینک ڈکیتی، پانچ مسلح ڈاکوؤں نے عملے کو یرغمال بنا کر ایک لاکھ آٹھ ہزار روپے لوٹ لیے

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

سمستی پور / عالم کی خبر:بہار کے سمستی پور ضلع سے ایک بار پھر قانون و انتظامیہ کو چیلنج دینے والی سنگین واردات سامنے آئی ہے، جہاں سرائے رنجن تھانہ علاقہ کے شیتل پٹی گاؤں کے قریب واقع بنڈھن بینک میں دن دہاڑے پانچ مسلح ڈاکوؤں نے ڈکیتی کی بڑی واردات کو انجام دیا۔ اس واقعے نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بینک میں معمول کے مطابق کام جاری تھا اور صارفین اپنے مالی لین دین میں مصروف تھے۔ اسی دوران اچانک پانچ مسلح ملزمان بینک میں داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں جدید اسلحہ تھا اور وہ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ آئے تھے۔ داخل ہوتے ہی انہوں نے بینک کا دروازہ بند کر دیا اور تمام موجود افراد کو ہتھیاروں کے زور پر ایک کونے میں یرغمال بنا لیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ڈاکوؤں نے انتہائی منظم انداز میں واردات کو انجام دیا۔ عملے اور گاہکوں کو سخت دھمکی دی گئی اور کسی کو بھی مزاحمت کا موقع نہیں دیا گیا۔ پورے بینک میں خوف اور سناٹے کا ماحول چھا گیا۔
ملزمان نے چند ہی منٹوں میں بینک کے کیش کاؤنٹر کو نشانہ بنایا اور وہاں موجود تقریباً ایک لاکھ آٹھ ہزار روپے (₹1,08,000) کی رقم اپنے قبضے میں لے لی۔ اس کے بعد وہ آرام سے بینک سے باہر نکلے اور قریبی راستوں سے فرار ہو گئے۔
واردات کی اطلاع ملتے ہی سرائے رنجن تھانہ پولیس موقع پر پہنچی اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔ بینک میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے اور ملزمان کی شناخت کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی سنجیدگی سے تفتیش جاری ہے اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ علاقے में ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔

اداریہ: قانون و نظم و نسق کی آزمائش
سمستی پور کے سرائے رنجن علاقے میں بنڈھن بینک میں دن دہاڑے ہونے والی یہ ڈکیتی صرف ایک مجرمانہ واردات نہیں بلکہ پورے ضلع کے امن و امان کے نظام پر ایک سنگین سوال ہے۔ پانچ مسلح ڈاکوؤں کا بینک میں داخل ہو کر عملے اور صارفین کو یرغمال بنا کر تقریباً ایک لاکھ آٹھ ہزار روپے لوٹ لینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں۔
اس واقعے میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ سمستی پور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ Arvind Pratap Singh خود موقع پر پہنچے اور تفتیش کی نگرانی کی۔ یہ انتظامیہ کی فوری کارروائی کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس نوعیت کی وارداتیں بار بار کیوں ہو رہی ہیں؟
گزشتہ کچھ عرصے سے ضلع میں جرائم میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کہیں نہ کہیں نگرانی اور خفیہ نظام میں کمزوری موجود ہے۔
بینکنگ سکیورٹی کے حوالے سے بھی یہ واقعہ ایک بڑا سوال ہے۔ دن دہاڑے اس طرح کی واردات یہ ظاہر کرتی ہے کہ یا تو سکیورٹی انتظامات ناکافی ہیں یا ان پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس نہ صرف اس کیس کو جلد حل کرے بلکہ مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کر کے واضح پیغام دے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔ ساتھ ہی خفیہ نظام کو مضبوط کرنا، گشت بڑھانا اور حساس علاقوں میں خصوصی نگرانی ضروری ہو گئی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں

پٹنہ میں گنگا کنارے تجاوزات کے خلاف بڑی کارروائی
پٹنہ میٹرو ٹرائل رن سے متعلق اہم اپڈیٹ

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *